ہم تو اب غیر ہیں انکے لئے


دکھ سہتے ہیں ہم جن کے لئے

ہم تو اب غیر ہیں انکے لئے

 

وہ خاموش ہیں، کچھ کہتے نہیں

اب بچا کیا سننے کے لئے

 

تم ہنس کر جئیے جاتی ہو

ہم کہاں جائیں رونے کے لئے

 

تو نہ آئی تو موت آئیگی

مجھے آغوش میں لینے کے لئے

Advertisements

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.