آج کی رات برسیگا رات بھر


آج کی رات برسیگا رات بھر

اشک نظروں سے بہیگا رات بھر

 

جدائی کے ہاتھ میں خنجر ہوگا

میرا سینہ چھلنی ہوگا رات بھر

 

بےخودی دل میں رہیگی میزبانی میں

درد مہمان بن رہیگا رات بھر

 

جس نے ٹھکرایا ہمیں زمانے میں

آج وہ یاد آئیگا رات بھر

اردو شاعری

Advertisements

Leave a Reply