Tag Archives: محبت شاعری

کسی دامن کا کیا بھروسہ ہے

اردو شاعری


کسی دامن کا کیا بھروسہ ہے

ہم کو دنیا کا تجربہ ہے

 

روشنی حسن کی پائی جب سے

دل کی تصویر میں اندھیرا ہے

 

اتر آیا ہوں گہرے ساگر میں

اب تو آنسو کا ہی سہارا ہے

 

کیوں پرایوں سے ہم خوشی مانگیں

جب میرا غم ہی مسکراتا ہے

ہم تو اب غیر ہیں انکے لئے

اس قدر دل کو سجا نہ دو

Advertisements

اس قدر دل کو سجا نہ دو


بجھ گئے چاند کو صدا نہ دو

اس قدر دل کو سجا نہ دو

 

تم کسی کی خوشی کے لئے

ان بھری آنکھوں سے دعا نہ دو

 

جس نے دنیا میں جینا سیکھا

اسکے ایمان کا واسطہ نہ دو

 

حسن اور سادگی کا وہ چہرہ

یاد کر درد کو راستہ نہ دو

ہم تو اب غیر ہیں انکے لئے


دکھ سہتے ہیں ہم جن کے لئے

ہم تو اب غیر ہیں انکے لئے

 

وہ خاموش ہیں، کچھ کہتے نہیں

اب بچا کیا سننے کے لئے

 

تم ہنس کر جئیے جاتی ہو

ہم کہاں جائیں رونے کے لئے

 

تو نہ آئی تو موت آئیگی

مجھے آغوش میں لینے کے لئے

داستاں آنکھوں میں رہ جائے


جو بھی ہوٹھوں سے نہ کہہ پائے

داستاں آنکھوں میں رہ جائے

 

وہ چلی جاتی ہے دور صحیح

یادیں دامن میں میرے رہ جائے

 

دل میں پانی لئے چلتے ہیں

کوئی پیاسا کہیں مل جائے

 

جو بھی پہچانے ملے راہوں میں

ہر کوئی ہمپے اب ہنس جائے

ظلم کرتی ہے جب مجھپے تنہائی


بےوفا ہو گیا ہے درد مجھی سے

دور کا رشتہ ہو گیا خوشی سے

 

ایک بادل کا ٹکڑا اڑتا تھا

ہم نے برستے دیکھا اسے بے بسی سے

 

کوئی کشتی جب کنارے لگتی ہے

وہ ٹھہرتی ہے کتنی خاموشی سے

 

ظلم کرتی ہے جب مجھپے تنہائی

قتل کرتا ہوں اپنی بےخودی سے

جو محبت میں درد پاتے ہیں

آگ لگی ہے روح کے دھاگے میں

اردو شاعری-آگ لگی ہے روح کے دھاگے میں


ایک سلسلہ سا چل رہا ہے

دل آنسؤں میں غل رہا ہے

 

کبھی جھانک کر دیکھا اپنے اندر

ہر طرف وہاں کچھ جل رہا ہے

 

آگ لگی ہے روح کے دھاگے میں

جسم موم سا پگھل رہا ہے

 

بہت صاف ہے من کا آئینہ

آنسؤں سے جب وہ دھل رہا ہے

عشق اور بندگی کے آنسو ہیں

جو محبت میں درد پاتے ہیں

اردو شاعری-جو محبت میں درد پاتے ہیں

جو محبت میں درد پاتے ہیں

انکے دل میں خدا آتے ہیں

 

سوچ کر ہم کچھ نہیں کہتے

جو دل میں ہے، کہہ جاتے ہیں

 

بھیڑ ہم سے دور جاتی ہے

اور ہم تنہا رہ جاتے ہیں

 

چاند سنگ دو قدم چلکر

بیتے دن ہم کو یاد آتے ہیں

اردو شاعری-عشق اور بندگی کے آنسو ہیں


یہ میری جندگی کے آنسو ہیں

عشق اور بندگی کے آنسو ہیں

 

لال رنگت کا بھرم ہے ورنہ

میرے کھوں بھی تو میرے آنسو ہیں

 

کوئی آنچل پوچھیگی ایک دن

اسی خواہش میں بہتے آنسو ہیں

 

کوئی میٹھی سی خوشی کیا دیگا

جو اتنے سارے کھارے آنسو ہیں

عشق شاعری-مجھ سے وہ خفا ہے اور دل مجھ سے خفا ہے

تیری آنکھوں سے ہمیں عشق ہوا

اردو شاعری-تیری آنکھوں سے ہمیں عشق ہوا

تم تو آئے بھی، چلے بھی گئے

ایک دل تھا اسے لے بھی گئے

 

تیری آنکھوں سے ہمیں عشق ہوا

میری آنکھوں کو اشک دے بھی گئے

 

ہمیں منظور ہے رونا تنہائی میں

بھیڑ میں ہم درد پی بھی گئے

 

اب تو کچھ نہ بچا دنیا میں

ایک تم تھے، تم کھو بھی گئے

عشق شاعری-مجھ سے وہ خفا ہے اور دل مجھ سے خفا ہے

عشق شاعری-مجھ سے وہ خفا ہے اور دل مجھ سے خفا ہے

حالات ہی کچھ ایسے ہیں,تو آنسو کیوں نہ آئے

جسکے خیالات میں ہم تھے,وہ اب تک نہ آئے

 

رونے گئے ساگر کنارے,ساحل پہ ہی بیٹھ گئے

یہ سوچتے ڈوب گئے که پانی سر تک نہ آئے

 

 

مجھ سے وہ خفا ہے اور دل مجھ سے خفا ہے

خنجر چبھے ہیں دونوں طرف سے پر آہ تک نہ آئے

 

 

سب سے جدا ہے میرا غم,پھول کی طرح نازک ہے

اتنے جتن سے سنبھالا ہے که مسکان تک نہ آئے

آج کی رات برسیگا رات بھر


آج کی رات برسیگا رات بھر

اشک نظروں سے بہیگا رات بھر

 

جدائی کے ہاتھ میں خنجر ہوگا

میرا سینہ چھلنی ہوگا رات بھر

 

بےخودی دل میں رہیگی میزبانی میں

درد مہمان بن رہیگا رات بھر

 

جس نے ٹھکرایا ہمیں زمانے میں

آج وہ یاد آئیگا رات بھر

اردو شاعری